

ترانوے سا لہ شفق صدیقی کا نام پاکستان کے علمی و ادبی حلقوں کیلئے کوئی نیا نام نہیں ہے-ان کی نظم و نثر پر مشتمل متعدد کتب زیور طبع سے آراستہ ہو کرقبول عام پا چکی ہیں- موصوف اگر چہ ١٩٦٧سے یورپ میں مقیم ہیں لیکن دیارمغرب میں رہتے ہوئےآج بھی ان کا دل پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ ہی دھڑکتا محسوس ہوتا ہے جو جذبہ حب الوطنی کی ایک مثال کے مترادف ہے ۔
شفق صدیقی صا حب ا یک مسلمان اور دین دار گھرانے کے چشم و چراغ ہیں اور اسی حوالےسےگردوپیش کے حالات کو پرکھنے گے قائل ہیں۔ گزشتہ صدی کی چوتھی دہائی میں دنیا کا نقشہ پر ابھرنے والی عظیم نظریاتی مملکت پاکستان کوانہوں نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بنتے دیکھا ہے بلکہ اپنے اکابرین کے ساتھ مل کر کام بھی کیا ہے اورقربانیاں بھی دی ہیں نیز اپنے پورے خاندان کے ساتھ ہجرت کے عمل سے بھی گزرے ہیں ‘لیکن ان کے خوابوں کی تعبیر کے برخلاف جب پاکستان مسلسل ایسے عما ئدین کی ہوسوں کا نشانہ بننے لگا جو کہنے کو تو پاکستانی بھی تھے اور مسلمان بھی لیکن ان کا عمل اور رویہ اس کی نفی کرتا تھا تو ان حالات کی وجہ سےہر حساس دل کی طرح وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور کہنے پر مجبور ہوئے کہ ۔۔۔ہ
اسلام کہاں‘ قرآن کہاں‘ یہ نام ہیں بس دستوروں میں
قائد کے ہوئے سب قول غلط یا قوم نے دھوکا کھایا ہے
اے شوق تمنا سوچ ذرا ‘ اے ذوق تصور غور تو کر
کل خواب میں کیا کچھ دیکھا تھا ' تعبیر میں کیا کچھ پایا تھا اب ان کے سامنے دو راستے تھے کہ اپنے اکثر معاصرین کی طرح نا گفتہ بہ حالات و واقعات سے مایوس ہوکرگوشہ نشین ہوجائیں یا پھر اپنے ضمیرکی آوازپر لبیک کہتے ہوئے حالات کو سد ھارنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ------انہوں نے دوسرے راستے کو اختیار کیا اور “کہنا“ جو انکے بس میں تھا 'اس سے اپنے سفر کا آغاز کیا -چنانچہ کہنا شروع کرنے کے بعد سے وہ مسلسل کہہ راہے ہیں اور وہ جو کچھ کہہ راہے ہیں پوری دردمندی کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ جب احساس کی سب لویں بجھ چکی ہوں اور بے ضمیری و گمراہی کے اندھیرےگھنگو ہو چکے ہوں توایسے میں ایک ٹمٹماتا دیا کیا روشنی دے گا۔ لیکن کچھ لوگ ابھی مایوس نہیں انکا نظریہ ہے کے چراغ جلائے رکھوں اور مایوسی کے بجائے امید کےدئیے کی لو کو بڑھاتے رہو‘ ایک سے دو اور دو سے تین درد باٹنے والے مل گئے تو دئیے سے دئیے جلتے رئیں گے۔ اور روشنی بڑھتی رہے گی۔ کیونکہ اگر سبھی چراغ بجھ گئے تو روشنی کی کرن کہاں سے پھوٹے گی۔ سچ ہے کے مایوسی کفر ہے ‘اور شفق صاحب بھی نہایت پر امید ہوکر کہتے ۔۔۔ہ
جس دن کی خاطر کل ہم نے خود اپنے گھر برباد کیئے
اس پاک وطن کے صحرا بھی کس محنت سےآباد کیئے
لٹتے ہوئے اپنے گلشن کو جب ہم سےنہ دیکھا جائے گا
ہم جیتے رہے تو دیکھیں گے وہ وقت یقینا آئے گامسند کے بجا حقدار ہی جب مسند پے بٹھائے جائیں گے
یہ داغ جو ہیں رسوائی کے وہ ہر اک داغ مٹائے جائیں گے
ہر فرد غموں سے چھوٹےگا اور گیت خوشی کے گائے گا
ہم جیتے رہے تو دیکھیں وہ وقت یقینا آئے گاحالات وطن کے بدلیں گے وہ دن بھی زمانہ لائے گا
ہم جیتے رہے تو دیکھیں گے وہ وقت یقینا آئے گا شفق صدیقی صاحب کی ایک تازہ نژی تصنیف “امید کی کرن عمران خان“انکی اسی پر امیدی کے ایک تازہ قندیل ہیں ۔وہ آزمائےہوئے سیاستدانوں سے سخت دل برداشتہ اور مایوس نظر آتے ہیں لیکن بوجوہ ایک نوجوان لیڈر سے کیوں بہت زیادہ پر امید ہیں اسکا اندازہ اس کتاب “امید کی کرن عمران خان“ پڑھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔
شفیق احمد فاروق